کمٹہ 20،؍جنوری (ایس او نیوز) کمٹہ میں گبس سرکل کے قریب جنتا دل (ایس ) کے دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے جنتا دل ایس کے ریاستی یوتھ لیڈر مدھو بنگارپا نے مرکزی وزیر مملکت اننت کمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اننت کمار ہیگڈے کے پاس عزت وآبرو نام کی کوئی چیز نہیں ہے ، اس لئے انہیں گائے کے پیشاب سے غسل کرنا چاہیے۔
مدھو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے بی جے پی حکومت نے اننت کمار ہیگڈے کو وزیر بناکرریاست میں ہرجگہ فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کا ٹھیکہ دے دیا ہے۔ بی جے پی کا لاشوں پر سیاسی کھیل انتہائی قابل مذمت ہے۔
مدھو بنگارپا کے مطابق کمٹہ اسمبلی حلقے کے لئے موجودہ ضلع پنچایت رکن پردیپ نائک کو امیدوار بنایا جائے گا۔ان کے مطابق جنتا دل پارٹی لیڈروں کی وجہ سے ترقی نہیں کررہی ہے بلکہ اس کے کارکنان سے پارٹی کو استحکام ملا ہے ۔ اس لئے چاہے جو بھی لیڈر اس پارٹی کو چھوڑ کرچلاجائے اس سے پارٹی کا کچھ نقصان ہونے والا نہیں ہے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بھٹکل حلقے سے عنایت اللہ شاہ بندری، کاروار سے آنند اسنوٹیکر ، یلاپور سے رویندرا نائک،سرسی حلقے سے ڈاکٹر ششی بھوشن ہیگڈے کی امیدواری طے ہوگئی ہے۔ جبکہ ہلیال حلقے کے لئے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
مدھو کا کہنا تھا کہ ریاست میں جنتا دل بر سراقتدار آنے پر ہی غریبوں کے آنکھوں سے آنسو بہنے بند ہوناممکن ہوگا۔اس سے پہلے جب جے ڈی ایس کی حکومت تھی تو خود کشی کرنے والے کسان کے گھر جاکر کمار سوامی نے کسانوں کا قرضہ معاف کروایا تھا، جبکہ سدارامیا قرضہ معاف کرنے کے صرف اعلان کرتے ہیں ، اور اب تک کسی بھی سوسائٹی کو رقم ادا نہیں کی گئی ہے۔25فی صد قرض داروں کے قرضے بھی معاف نہیں ہوئے ہیں۔صرف اعلانات اور امیدوں پر سرکاری منصوبے چل رہے ہیں، اس سے عوام کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا ہے۔کانگریس سرکا ر کا مطلب ادھار پر چلنے والی سرکار ہے۔
اس موقع پر کمٹہ حلقے کے جے ڈی ایس امیدوار پردیپ نائک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کمٹہ حلقے سے بی جے پی کی ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے 20سے زیادہ امیدوار قطار میں لگے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس میں ماں اور بیٹے کو چھوڑیں تو کوئی اور نہیں ہے۔لیکن جنتا دل ایک ایسی پارٹی ہے جس میں متفقہ امیدوار موجود ہیں۔اس طرح کمار سوامی وزیر اعلیٰ بننے والے ہیں ، لہٰذا عوام کو چاہیے کہ جنتا دل کی حمایت کرتے ہوئے اس کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔پردیپ کے مطابق جلد ہی کانگریس اور بی جے پی سے بہت سارے سیاسی لیڈران جنتا دل میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں۔